URDU (PAKISTAN)

Sunnah Reloaded

چھوڑى هوئى سنتيں

سب تعریفیں اللہ تعالى کے لئے ہيں ، جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے ، اورپرہيزگاروں كے لئے نہايت ہى عمده انجام ہے ، اوردرود وسلام ہو اس کے بندے اور رسول اور ہمارے نبی محمد صلى الله عليه وسلم پر جو رحمۃ للعالمين اور بندوں کے لئے حجت بنا کر بھيجے گئے ، اور آپ کی تمام آل واولاد پر جنہوں نے اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبی کی سنت کو محفوظ کرکے دوسروں تک پورى امانت وديانت اور معانی والفاظ کو مکمل حفظ واتقان کے ساتھ پہنچايا اللہ ان سے راضی ہوا اور انہيں راضی کيا اور ہميں احسان کے ساتھ ان کے نقش قدم پر چلاۓ ۔

اما بعد سنت کیا ہے؟ 

ہر وہ قول ، فعل، تقریر یا صفت جو نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے منصوب ہو وہ سنت کہلاتی ہے

سنت كی اھميت

الله سبحانه وتعالى نے قران ميں فرمايا

“كه دو  اگر تم الله سے محبت كرتے هو تو ميری پيروي كرو الله تم سے محبت كرے گا اور تمهارے  گناه معاف فرمائے گا اور الله بهت مغفرت كرنے والا رحم كرنے والا هے ” سورت ال العمران ايت 31

” یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے۔” الاحزاب ايت 21

امام غزالی   فرماتے ہیں : “سعادت و خو ش بختی  کی کنجی سنت کی اتباع ، اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام مصادروموارد، حرکات و سکنات ، یہاں تک کہ آپ کے کھانے پینے،سونے و جاگنے کی ہیئت اورانداز گفتگو و کلام میں اقتدا  و پیروی کرنےمیں ہے۔  میں یہ نہیں کہتا کہ يہ اتباع صرف عبادات کے اندرآپ کے آداب تک محدود  ہے  کیونکہ اس کے علاوہ ابواب میں واردسنتوں سے بے اعتنائی کی کوئی وجہ نہیں ہے–   بلکہ یہ عادات کے تمام امور کو شامل ہے،کیونکہ اسى کے ذریعہ (سنت كا)مطلق اتباع حاصل  ہوتاہے۔”

امام مالک نے فرمایا: یہ سنت نوح عليه السلام کی کشتی کے مانند ہے، جو اس پر كاربند رها  کامیاب هوا  اور جس نے اسے چہوڑا وہ  نامراد هوا

الله کے رسول کا فرمان ھے كه ميں تمهارے درميان دو چيزيں چھوڑ كے جا رها هوں الله كی كتاب اور ميری سنت, جس نے اس كو مضبوطي سے تهاما وه كبهي گمراه نهيں هو گا

ذو النون المصری نے فرمايه كه الله سے محبت كی نشاني أس كے رسول كے اخلاق, افعال, سنتوں اور  احكام كى پيروى  كرنا هے

يقينا مؤمن كا مقام الله كے رسول كي اتباع سے جانچا جاتا هے. پس جو جتنى سنت كى اتباع كرے گا وه اتنا هى الله كے نزديك اعلى اورمكرم هو گا. سنت كى اتباع كے بےشمار فوائد هيں جيسے

الله كى محبت تك پھنچنے كا ذريعه هے

فرائض كى مكمل ادائگى ميں مدد كرتى هے

بدعات سے بچاتی هے

الله كے بتائے هوے احكامات كى تعظيم هوتى هے

مگر صد افسوس! اس بڑہتے ہوے فتنے کے دور میں ہم مسلمانوں نے اپنے رسول کی سنت ترک كر کے کافروں اور مخالف اقوام کے طور طریقے اپنا لیے ہیں، چاہے وہ کہانے پینے کا طریقہ ہو یا پہنے اڑنے کا

اگر ہم مسلمان ہوتے ہوہے اللہ کی بھیجی ہوہی شرعیت پر نہیں چليں گے تو ہم فلاح وبھدود سے ہمیشہ محروم رہے گئے

متروك سنتوں كو زنده كرنا تاكه اهل الارض الله كى شريعت كى طرف رجوع كريں الله كے رسول نے اس كے بارے ميں فرمايا

جس نے ميرى ايك سنت كو زنده كيا اور اسے لوگوں كو سكهايا اس كے ليئے عمل كرنے والے كا جيسا اجر هے اور اس كے اجر ميں كوئى كمى نهيں كى جائے گى. ابن ماجه

اپ كى خدمت ميں چند متروك سنتيں جو صحت كے اعتبار سے صحيح هيں پيش كر رهے هيں

كثرة الاستغفار

عبد الله بن عمر سے روايت هے كه الله كے رسول كى مجلس ميں هم گن ليتے تھے كه الله كے رسول سو بار الله سے استغفار كرتے تھے. ” اے ميرے رب مجھے معاف كر دے ميرى توبه قبول كر بيشك تو بهت توبه قبول كرنے والا رحم كرنے والا هے”.ابو داود و ترمذي

وصيت كا لكھنا

  ابن عمر سے روايت هے كه الله كے رسول نے فرمايا كسى مسلم شخص كو يه لائق نهيں كه اگر وه اتنا مال ركھتا هے كه اس كى وصيت كى جا سكتى هو تو بغير وصيت كيئے اس پر دو راتيں نه گزريں. ايك روايت ميں تين راتيں موجود هے صحيح مسلم

توبه كرتے وقت دو ركعت نماز پڑھنا

ابو بكر رضى الله عنه سے روايت هے كر الله كے رسول نے فرمايا جب كوئى شخص گناه كر بيٹھے پھر وه پاك هو پھر نماز پڑھے اور الله سے توبه كرے تو الله اسے معاف كر ديتے هيں. پھر الله كے رسول نے يه ايت پڑھى

جب كوئى گناه كر بيٹھے يا اپنى جان پر ظلم كرے تو الله كو ياد كرے   صحيح الترغيب

نماز سے پہلے مسواک کا استعمال کرنا 

اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے کہ: اگر مجھے اپنی امت پر  مشقت ودشواری کا خوف نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔   بخاري

نئا لباس پہنتے ہوے دعا پھڑنا 

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ جب کوئی نیا کپڑا ٗ عمامہ ٗ قمیص یا چادر پہنتے تو اس طرح دعا پڑھتے ۔ اے اﷲ سب تعریفیں تیرے لیے ہیں جیسے تو نے مجھے یہ پہنایا میں تجھ سے اس کی بھلائی مانگتا ہوں اور اس کی بھلائی جس کے لیے بنایاگیا میں اس کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اس کی برائی سے جس کے لیے بنایاگیا ۔   ترمذی ابوداؤد

شکرانے کا سجده کرنا 

ابو بکرہ رضی اللہ عنہ  کی حدیث: بیشک نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کو جب پر مسرت بات بتلائی جاتی، یا خوش خبری دی جاتی تو فوراً اللہ کا شکر کرتے ہوئے سجدہ کرتے

BROUGHT TO YOU BY:

THE HIDDEN PRESTIGE